شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو مستقل ہیڈ کوچ اور مستقل چیئرمین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کنڈیشنز کے مطابق ٹیم کا انتخاب ہونا چاہیے، نہ کہ غیر دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں۔ نیوزی لینڈ میں چار اسپنرز بھیجنے اور دیگر غلط سلیکشن پالیسیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم تجربات کی جگہ نہیں بلکہ کارکردگی کی جگہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بینچ اسٹرینتھ مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ اگر مستقبل میں بابر، شاہین یا رضوان نہ ہوں تو ٹیم مشکلات کا شکار نہ ہو۔
