میڈیا رپورٹس کے مطابق واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ K-IV منصوبے کے تحت جون 2026 تک کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن صاف پانی فراہم کیا جائے گا، جبکہ منصوبے کا 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، شہر کے اندر پانی کی تقسیم کا نظام تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB) نے تقسیم کے نیٹ ورک کے لیے تاحال ٹینڈرز جاری نہیں کیے۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے سندھ حکومت کے ساتھ فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جہاں وزارت آبی وسائل نے 33 نئے آبی منصوبے تجویز کیے، جن میں سندھ کے 3، خیبرپختونخوا کے 19، پنجاب کے 7 منصوبے شامل ہیں، تاہم بلوچستان کے لیے کوئی نیا منصوبہ نہیں دیا گیا۔
